چیف سیکرٹری پنجاب کے ذریعے دائر کی جانے والی اپیل میں سپریم کورٹ کا فیصلہ چیلنج کرتے ہوئے فوجی عدالتوں سے متعلق فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کردی گئی

سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف پنجاب حکومت نے بھی اپیل دائر کردی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف سیکرٹری پنجاب کے ذریعے دائر کی جانے والی اپیل میں سپریم کورٹ کا فیصلہ چیلنج کرتے ہوئے فوجی عدالتوں سے متعلق فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کردی گئی، اس مقصد کے لیے اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ معاملہ 199 کے تحت چلنا چاہیئے تھا لیکن سپریم کورٹ نے 184 تھری کے تحت آئینی دائرہ اختیار استعمال کیا، دیگر فورمز موجود ہوں تو 184 تھری کا دائرہ اختیار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔بتایا گیا ہے کہ اپیل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی جانب سے دائر کی گئی جس میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون اور حقائق کے خلاف ہے،آرمی ایکٹ کی طرز پر مختلف عدالتیں ملک بھر میں کام کررہی ہیں، فوجی اور عام عدالتیں 1947ء سے کام کررہی ہیں، فوجی عدالتوں میں ملزمان کا ٹرائل قانون کے مطابق چلایا جاتا ہے۔
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 21 نومبر 2023ء ) فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلقعلاوہ ازیں وفاقی حکومت بھی سویلینز کے ملٹری ٹرائل کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرچکی ہے، وفاقی حکومت نے بذریعہ اٹارنی جنرل انٹرا کورٹ اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کا سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، اس اپیل پر فیصلے تک 5 رکنی بینچ کے فیصلے پر حکم امتناع دیا جائے۔
جب کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا حکومت نے بھی فوجی عدالتوں میں سویلنز کا ٹرائل روکنے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہوا ہے، بلوچستان حکومت نے آرمی ایکٹ، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی کالعدم دفعات بحال کرنے کی استدعا کی، بلوچستان حکومت نے اپیلوں پر فیصلے تک 5 رکنی بینچ کا فیصلہ معطل کرنے کی بھی استدعا کی اور درخواست میں موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ نے ناقابلِ سماعت درخواستوں پر حکم جاری کیا۔
Post a Comment